لاکھ[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک سرخ رنگ کا صبغی مادہ (جسے آنچ دکھا کر کاغذ وغیرہ پر ٹپکاتے اور اس پر مہر لگاتے ہیں، چوڑیاں اور زیورات بنانے میں استعمال کرتے ہیں)، ایک چھلکے نما کیڑے کی جمی ہوئی اور خشک رال جسے وہ بعض درختوں کی پتلی شاخ پر ٹپکاتا ہے اور اسے مقرر کیمیاوی طریقے سے صاف کر لیتا ہے، لاطینی زبان میں Laccifer Lacca۔ "بابا کی یہ بات میرے دل پر اس طرح نقش ہو گئی جیسے گرم گرم لاکھ پر مہر جم جاتی ہے"۔      ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ ہے اردو میں ١٨٨٣ء کو "جغرافیہ گیتی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک سرخ رنگ کا صبغی مادہ (جسے آنچ دکھا کر کاغذ وغیرہ پر ٹپکاتے اور اس پر مہر لگاتے ہیں، چوڑیاں اور زیورات بنانے میں استعمال کرتے ہیں)، ایک چھلکے نما کیڑے کی جمی ہوئی اور خشک رال جسے وہ بعض درختوں کی پتلی شاخ پر ٹپکاتا ہے اور اسے مقرر کیمیاوی طریقے سے صاف کر لیتا ہے، لاطینی زبان میں Laccifer Lacca۔ "بابا کی یہ بات میرے دل پر اس طرح نقش ہو گئی جیسے گرم گرم لاکھ پر مہر جم جاتی ہے"۔      ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٨٢ )

جنس: مؤنث